راولپنڈی (نیوزڈیسک)جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد فلائی اوور پرتحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن ، مزاحمت کاروں نے انتظامیہ و پولیس کو پسپائی پر مجبور کر دیا، ایف سی ،پولیس اور دھرنا کے شرکا کے درمیان خوفناک تصادم ،ربر کی گولیوں کے استعمال ،شیلنگ ، پتھروں ، ڈنڈوں وآہنی راڈوں کے آزادنہ ا ستعمال سے ایک پولیس اہلکار اور چھ مظاہرین سمیت 7افراد جاں بحق، تحریک لبیک پاکستان کے امیر خادم رضوی کےدو بیٹوں کے علاوہ سی پی او راولپنڈی ، ایس پی پوٹھوہار ، دو ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ او اور میڈیا کے نمائندوں اور شہریوں سمیت 300سے زائد افراد زخمی ہو گئے جن میں سے بیشتر کی حالت نازک ہے مریڑ چوک گرڈ سٹیشن میں آگ لگنے سے شہرو چھاؤنی کی32کے قریب فیڈر بندہو جانے سے شہر کی80فیصد علاقوں میں مکمل بلیک آؤٹ رہا تمام نیوز چینل کی نشریات بند ہو جانے کے بعدراولپنڈی کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ ، وٹس ایپ اور فیس بک سروس بھی معطل ہو گئی آپریشن کے ردعمل میں مشتعل افراد نے نجی ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی ، 3ایمبولینس گاڑیوں اورپولیس کی 5گاڑیوں کو نذر آتش کر دیاجبکہ پولیس نے ہنگامہ آرائی میں ملوث100سے زائد افراد کو موقع پر حراست میں لے لیا۔زخمیوں میں زیادہ تر تعداد پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی ہے جبکہ زخمی ہونے والوں میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جاں بحق ہونے والوں میں صدر میں واقع مدرسے میں زیر تعلیم پنڈی کا رہائشی 19سالہ حافظ عدیل 43سالہ عرفان سکنہ تھانہ مغل تحصیل راولپنڈی 25سالہ محمد ضہیب ولد زاہد سکنہ ڈھوک کھبہ پچیس سالہ عبدالرحمان مقامی امن کمیٹی کا رکن 35سالہ جہانزیب نثار ولد نثار اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں جبکہ آئی ایٹ کے علاقے میں ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے وحشیانہ تشدد سے جاں بحق ہوگیا تھانوں کی انتظامیہ سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق بے نظیر بھٹو ہسپتال میں مجموعی طور پر 51زخمی لائے گئےجن میں ایف سی اور پولیس کے نو اہلکار شامل ہیں اسی طرح ہولی فیملی ہسپتال میں مجموعی طور پر چوبیس زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سب انسپکٹر سمیت ایف سی اور پولیس کے آٹھ اہلکار اور سولہ مظاہرین شامل ہیں ادھر پمز ہسپتال میں مجموعی طور پر 158زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں پولیس کے 61اور ایف سی کے 47اہلکار شامل ہیں پولی کلینک ہسپتال میں مجموعی طور پر گیارہ زخمیوں کو لایا گیاہے جن میں ایف سی اور پولیس کے آٹھ اہلکار شامل ہیں ضلعی پولیس کے ترجمان کے مطابق مظاہرین نے قیدیوں اور حوالاتیوں کو لے جانے والی پولیس کی چار گاڑیوں کو بھی آگ لگانے کے بعد پٹرول پمپ پر کھڑی دس گاڑیوں اور ڈھوک کالا خان سروس روڈ پر دو موٹر سائیکل بھی نذر آتش کردیئے ادھر زخمی ہونے والوں میں سی پی او راولپنڈی اسرار احمد عباسی ڈی ایس پی سٹی فرحان اسلم ڈی ایس پی نیو ٹاؤن اور ایس ایچ او نیو ٹاؤن سمیت تیس سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے گلشن دادن خان کے مقام پر سی پی او اسرار عباسی نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی لیکن سی پی او اور پولیس کو دیکھتے ہی مظاہرین نے پتھراؤ کردیا جس سے درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ہفتہ کی صبح ہونے والے آپریشن کی خبر پھیلتے ہی شہر کے مختلف علاقوں نے دینی مدارس کے مہتم اورعلما کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلیوں اور جلوسوں نے شہر کے تمام چوکوں اور چوراہوں پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکیں بند کر دیں فیض آباد پہنچنا شروع ہو گئے جس سے آپریشن میں جڑواں شہروں کی پولیس اور ایف سی کے دستے باہر سے آنے والی ریلیوں کے باعث درمیان میں محبوس ہو گئےجس سے مشتعل مظاہرین نے دونوں اطراف سے پولیس پر پتھراؤ کر دیا جواب میں پولیس نے ربر کی گولیاں چلانے کے علاوہ اندھا دھند آنسو گیس پھینکی جس سے فیض آباد سے شمس آباد کے درمیان کا علاقہ میدان جنگ بن گیا جہاں پر مشتعل مظاہرین نے سما ٹی وی کی ڈی ایس این جی ، 3پرائیوٹ ایمبولینس گاڑیاں اور پولیس کی 5گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ دنیا ٹی وی کے رپورٹر قمرالمظفردھرنے کے مقام پر بائیں پسلی کے نیچے ربر کی گولیاں لگنے سے اور روزنامہ میٹرو واچ راولپنڈی کے بیورو چیف پرویز احمد عاصی رحمان آباد چوک گاڑیاں توڑنے والے مظاہرین کی تصویر بناتے ہوئے ڈنڈا بردار مظاہرین کے حملے سے شدید زخمی ہو گئے جبکہ شمس آباد کے قریب مشتعل مظاہرین نے سما ٹی وی کی ڈی ایس این جی بھی نذر آتش کر دی شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کے باعث پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ پولیس نے گزشتہ24گھنٹون کے دوران دربار عالیہ محمدیہ گلشن آباد اکال گڑھ کے سجادہ نشین پیر سرکار جی اور دربار عالیہ گولڑہ شریف کے سجادہ نشین کے صاحبزادے پیر اورنگزیب بادشاہ سمیت100سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا تصادم کے دوران صدر میں واقع دینی مدرسے جس سے تمام دن شہر میں صورتحال انتہائی کشیدہ رہی راولپنڈی میں سکولوں کالجوں میں پہنچے طلباو طالبات بری طرح پھنس کر رہ گئے جس سے والدین کو انتہائی پریشانی کا سامنا کر نا پڑا بیشتر سکولوں نے والدین کو مطلع کئے بغیر بچوں کو چھٹی دے دی شہر بھر میں کشیدگی کے ساتھ بجلی اور نیوز چینلوں کی بندش کے بعد نیٹ سروس کی بندش سے شہری اذیت ناک صورتحال سے دوچار رہے۔

Source: Javedch.com


We deeply acknowledge your queries and your kind feedback/comments are highly valuable for us.
If you find anything offensive please inform us or send us your feedback at info@havelian.net
Thankyou very much, please keep visiting the website :)

loading...