* یہ المناک خبر سُن کر میں برف میں ساکت سا ہو کر رہ گیا۔چند گھنٹے تک صِرف میں تھا۔اور میری بے بسی و تنہائی تھی۔ سوچ گم اور ہوش گم تھے۔ کیونکہ باآخِر وہ ہو ہی گیا۔ جِس کا ایک مُدت سے ’’ کھٹکا تھا لگا ہوا ‘‘ مرحوم مشرقی پاکستان میں ایک مجاہد کو تختہء دار پر جُھولنا دے کر شہید کر دِیا گیا۔شہید عبدالقادر مُلاں اِس راہِ دَار و رسن کے پہلے شہید نہیں ہیں۔ اور نہ ہی اب آخِری ہونگے۔اب جب کہ یہ رسم دار و رسن چل ہی پڑی ہے۔ تو اب بہت سے سروں کو سر اُٹھا کر چلنے نہیں دیا جائے گا۔
* حسینہ واجد ایک کمینہ فطرت عورت ثابت ہوئی ہے۔ جِس نے اپنے باپ اور اہل خانہ کے قتل کا بدلہ معصوم فرزندانِ پاکستان سے لیا ہے۔اور آج مُجھے عقل سے عاری اُن سب لوگوں پر ماتم کرنے کو جِی چاہ رہا ہے۔ جو جماعت اِسلامی کو پاکستان اور افواجِ پاکستان کا مُخالف بلکہ دُشمن قرار دیتے ہیں۔ افواجِ پاکستان مصلحت کوش ہے۔ کہ وہ سرکاری سطح پر الشمس اور البدر کی پاکستان کے لیئے قربانیوں اور تعاون کا اِعتراف کرنے سے دانستہ گریزاں ہے۔ اور حکومتِ وقت اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے بزدِل ہے۔

* شہید عبدالقادر مُلاںؒ کی حُب الوطنی ایک ضرب المثل بنے گی۔ اُن کی اِستقامت قرونِ اُولیٰ کی یاد دِلائے گی۔ اُن کی شہادت قربانی کے نئے باب رقم کرے گی۔نظریاتی ایقان و ایمان کی جو روایت آج سے ساٹھ سال پہلے مرحوم سیدی مُودودیؒ نے لاہور میں قائیم کی تھی۔ اُسے آج شہید عبدالقادر مُلاںؒ نے ڈھاکہ میں زندہ جاوید کر دِیا ہے۔
’’ دشت و صحرا میں گِرے یا گِرے کفِ قاتل پر ۔۔۔۔ خُون پھِر خُون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا‘‘۔۔ اِنشااللہ یہ خُون بھی اپنا خِراج وصول کرے گا۔یہ شہادت ایک روشن مینار ثابت ہوگی۔شہید عبدالقادر مُلاںؒ کی یہ ’’ موت‘‘ قوم کی حیات بنے گی۔یہ جذبہ۔یہ جنون۔ یہ عِشق۔یہ لگن۔یہ اِستقامت۔ یہ اذان۔یہ اعلان۔ ۔۔۔۔۔ اور یہ لہو اِنشا اللہ بھلایا نہیں جائے گا۔
* آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔۔ الوداع اے شہید الوداع

 


We deeply acknowledge your queries and your kind feedback/comments are highly valuable for us.
If you find anything offensive please inform us or send us your feedback at
[havelian.net@gmail.com]
Thankyou very much, please keep visiting the website :)