ڈی ٹائپ ہسپتال حویلیاں میں مریضو ں کو ملازمین پرائیوٹ کلینکس کی راہ دکھانے لگیں۔گزشتہ روز رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب او پی ڈی رسید نمبر1070فی میل نے لیڈی ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا تو استقبالیہ سے جواب ملا کہ ڈیوٹی پر موجود ہیں مگر جب چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے کمرے میں گئے تو وہاں ڈیوٹی پربیٹھی سٹاف نرس نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے اور جا کر باہر سے چیک اپ کروالو کیا سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹیوں پر مامور سٹاف پرائیویٹ کلینکس سے کمیشن وصول کرتے/ کرتی ہیں یا پھر لیڈی ڈاکٹرڈبل ڈیوٹیاں کر تی ہیں سرکاری اوقات میں پرائیویٹ کلینک بھی ،اب ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہی ہیں جس کے تمام ثبوت بھی موجود ہیں ۔ڈاکٹر محمد عثمان خان نے صحافیوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے ٹھیکیدار عوام کے ساتھ یہ ٹوپی ڈرامہ بند کریں جو ڈاکٹرز یا لیڈی ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں کو کم ترجیح اور اپنے ساتھ بنائے گئے پرائیوٹ کلینکس کودوران سرکاری ڈیوٹی ترجیح دیتے ہیں اور جہاں اپنا مفاد ہو شور شرابہ احتجاج شروع کردیتے ہیں ایسے سماج و انسانیت دشمنوں کیخلاف کمشنر ہزارہ،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرایبٹ آباد ،سیکرٹری ہیلتھ فوری کاروائی کریں اور غریب کے حق پر ناجائز ڈاکہ نہ ڈالنے دیں بلکہ ان ملازمین کو رزق حلال کا درس دیں اور عام آ دمی کو ریلیف دیں اور اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے اچھے اقداما ت کریں ۔

 


We deeply acknowledge your queries and your kind feedback/comments are highly valuable for us.
If you find anything offensive please inform us or send us your feedback at
[havelian.net@gmail.com]
Thankyou very much, please keep visiting the website :)